887013 094216 updates 6

انڈسٹری میں توہین آمیزی پر خاموشی کی وجہ سسٹم میں رہ کر کام کرنا تھا، پریانکا

انڈسٹری میں توہین آمیزی پر خاموشی کی وجہ سسٹم میں رہ کر کام کرنا تھا، پریانکا

بالی ووڈ کی معروف اداکارہ پریانکا چوپڑا کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں اس حوالے سے نہایت تلخ اور توہین آمیز سلوک کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب ایک ڈائریکٹر نے ان سے ایک گانے کی پکچرائزیشن کے دوران نازیبا منظر کی شوٹنگ کا کہا تاکہ فلم بینوں کی توجہ حاصل کی جاسکے۔

اس سوال پر کہ ممبئی فلم نگری  میں توہین آمیز اور تذلیل پر مبنی تجربات کے خلاف انھوں نے آواز کیوں نہیں اٹھائی، پریانکا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسکی وجہ یہ تھی کہ مجھے اسی سسٹم کے اندر رہ کر کام کرنا تھا اور میں اس وقت اپنا کیریئر بنانے کی کوشش کررہی تھی۔ 

انھوں نے مزید کہا کہ ایک اور ڈائریکٹر نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ اپنے مخصوص اعضا کی سرجری اور دیگر کاسمیٹک پر مبنی اقدامات کریں۔

اس حوالے سے انھوں نے اپنی یاداشت پر مبنی تصنیف ان فنشڈ میں تحریر کیا کہ اس پر انھوں نے ان پروجیکٹس میں کام نہ کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن پھر بھی ان تجربات پر گفتگو کرنے میں انھیں متعدد سال لگے۔

اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ اس قسم کے غیر محفوظ ماحول سے پریشان نہیں ہونا چاہیے جوکہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں کام کا حصہ ہوتا ہے، اسی وجہ سے وہ ایک طویل عرصے تک اس حوالے سے خاموش رہیں۔ 

تاہم جب میں نے ان توہین آمیز رویوں پر ان پروجیکٹس میں کام کرنے سے انکار کیا تو پھر ایسے لوگوں کو اندازہ ہوگیا کہ میں ایسی آرٹسٹ نہیں کہ خود کو ان کی مرضی پر چھوڑ دوں۔ لیکن اس پر میں نے اپنی زبان سے کچھ اس لیے نہیں کہا، کیونکہ مجھے اسی سسٹم میں کام کرنا تھا، لہٰذا میں نے خاموشی سے اپنی مرضی کے مطابق اپنا کام اسی نظام میں رہ کر جاری رکھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں