img 1613626711 6

ن لیگ کو ناقابل برداشت دھچکا اہم ترین رہنما انتقال کرگئے- روزنامہ اوصاف

اسلام آباد(روزنامہ اوصاف)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مشاہد اللہ خان مسلم لیگ کے سینیئر رہنما تھے اور کافی عرصے سے علیل تھے ان کا انتقال اسلام آباد میں ہوا۔ وہ مسلم لیگ کی حکومت میں وفاقی وزیر بھی رہے۔سینیٹر مشاہد اللہ خان کے بیٹے ڈاکٹر افنان کے مطابق ان کی نماز جنازہ بعد نماز ظہر اسلام آباد کے سیکٹر الیون ایچ میں ادا کی جائے گی۔ 68 سالہ مشاہداللہ خان کو مسلم لیگ (ن) کی جانب سے آئندہ سینیٹ انتخابات

میں عام نشست پر الیکشن لڑنے کے لے ٹکٹ بھی جاری کیا گیا تھا۔ان کی وفات کی تصدیق مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ایک ٹوئٹ میں کی جس میں انہوں نے متوفی سینیٹر کو سابق وزیراعظم نواز شریف کا ‘وفادار اور غیر معمولی ساتھی کہتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا۔اپنے پیغام میں مریم نواز نے مزید کہا کہ مجھے یہ افسوسناک خبر سن کر دھچکا لگا، ان کی بدرانہ شفقت اور محبت کبھی بھلائی نہیں جاسکتی، بہت، بہت بڑا نقصان۔مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما احسن اقبال نے کہا کہ پارٹی ایک انتہائی بہادر
اور زیرک پارلیمنینٹیرین سے محروم ہوگئی ہے۔دوسری جانب رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ انہیں مشاہداللہ ان کی وفات کا سن کربہت دکھ ہوا، یہ ایک بڑا نقصان ہے ہماری دلی تعزیت ان کے اہل خانہ اور مسلم لیگ (ن) کے تمام ورکرز کے ساتھ ہے۔علاوہ ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر سعید غنی نے ایک تعزیتی پیغام میں کہا کہ ‘سیاسی اور نظریاتی اختلافات کے باوجود میں نے ہمیشہ یہ تسلیم کیا کہ مشاہد اللہ خان ایک بہادر، جمہوریت پسند اور اپنے موقف کا کھل کر اظہار کرنے والے سیاسی کارکن ہیں، ان سے ایک پرانا تعلق رہا جو ہمیشہ یاد رہے گا۔مشاہداللہ خان اپنے بے باک بیانات اور جارحانہ وفاداری کے سبب شریف برادران کو پسند تھے۔ دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی
نے بھی ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مشاہد اللہ خان ایک زیرک سیاستدان اور شفیق انسان تھے۔علاوہ ازیں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اوع ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے بھی ایوان بالا کے رکن سینٹر مشاہد اللہ خان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔اپنے پیغام میں اسد قیصر نے کہا کہ مشاہد اللہ خان ایوان بالا کے ایک فعال رکن تھے، ان کی وفات سے پارلیمان ایک متحرک سیاسی رہنما سے محروم ہو گیا جبکہ ڈپٹی اسپیکر کا کہنا تھا کہ مشاہد اللہ خان کی سیاسی اور سماجی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ مشاہداللہ خان تجربہ کار سیاستدان اور ایک اچھے انسان تھے، ساتھ ہی انہوں نے ان کی مغفرت کے لیے
دعا بھی کی۔ سال 1999 میں جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خاتمے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے زیادہ تر رہنما چھلانگ لگا کر دوسری کشتی میں سوار ہوگئے تھے لیکن مشاہداللہ نے فوجی آمر کا سامنا کرنے کا انتخاب کیا۔پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر انہوں نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے 2 پرکشش عہدوں سے استعفیٰ دے دیا جس میں ایک کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ جبکہ دوسرا عہدہ وزیر محنت اور افرادی قوت تھا۔ان کے اس اقدام پر انہیں قید کردیا گیا اور خود ان کے بقول انہیں فوجی حکومت کے متعدد مظالم برداشت کرنے پڑے۔اپنی جماعت کے حلقوں میں قابل احترام ہونے کے باوجود ان کا مزاج اور عوامی بیانات
دیتے ہوئے جارحانہ رویہ اکثر ان کے لیے مسائل کھڑے کرنے کا سبب بنا۔جب سےنواز شریف کو جلاوطنی پر مجبور کیا گیا مشاہداللہ خان ان کے قابلِ بھروسہ ساتھی تھے، پہلے وہ مسلم لیگ (ن) کے انفارمیشن سیکریٹری بعدازاں 2009 میں سینیٹڑ بنادیے گئے، وہ کئی برسوں تک اپنی جماعت کے ترجمان بھی رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں