img 1613988934 5

سند ھ حکومت حلیم عادل شیخ کو فوری رہا کرے ،وفاقی وزیراطلاعات- روزنامہ اوصاف

اسلام آباد(روزنامہ اوصاف)وفاقی اطلاعات ونشریات شبلی فراز نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کو فوری رہا کیا جائے ، آصف علی زرداری بڑے فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ میرے دور حکومت میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا آج سندھ میں ان کی حکومت ہے اور ممبراسمبلی کو دہشت گردوں کیساتھ رکھا گیا اور ان پر تشدد بھی کیا جارہا ہے ۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہاکہ سندھ حکومت نااہل اور نالائق ہے اور وہ جو سندھ میں اقدامات کررہی ہے اور پولیس کو ذاتی مفادات کے لئے استعمال کیا جارہا ہے ۔
 

انہوں نے کہاکہ سندھ پولیس میں بھرتیاں بھی غیر قانونی کی گئی ہیں اور جرائم پیشہ عناصر کو سندھ پولیس میں پیپلزپارٹی نے بھرتی کرایا ،پیپلزپارٹی نے جرائم پیشہ عناصر کو پولیس کے ذریعے تحفظ دے رکھا ہے اور پولیس کو ایک کاروبار بنا دیا ہے ، تھرپارکر میں کس طرح سے پی ٹی آئی کے ورکرز کو ہراساں کیا گیا اور ایک جمہوری الیکشن میں سندھ حکومت نے اپنی مشینری کو غیر قانونی طورپر استعمال کیا اسی طرح حلیم عادل شیخ کوبھی انتقام کا نشانہ بنایا جارہاہے کیونکہ وہ اسمبلی میں سندھ عوام کا مقدمہ لڑتے ہیں اور پیپلزپارٹی حکومت کی کرپشن کی داستانیں بیان کرتے ہیں اور اسی طرح کرپشن ، دھونس دھاندلی کا جو کلچر بنایا ہوا ہے حلیم عادل نے ان کو بے نقاب کیا ۔انہوں نے کہاکہ ہسپتالوں کی حالت ، پینے کے پانی کا مسئلہ دیکھیں ،لا اینڈ آرڈ ر کی صورتحال دیکھیں ہر شعبے میں سندھ حکومت نکام ہو چکی ہے ،اگر حلیم عادل جیسا طاقتور شخص کیساتھ پیپلزپارٹی حکومت نے جو کیا تو سوچیں عام آدمی کے ساتھ یہ لوگ کیا کرتے ہوں گے ؟انہوں نے کہاکہ آصف علی زرداری بڑے فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ میرے دور حکومت میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا ۔مگر پیپلزپارٹی نے اپنے صوبے میں ایک شخص کوسیاسی قید بنا دیا ہے اور اس پر تشدد کیا جارہا ہے ، سندھ حکومت ایک خاص طبقے کو نواز رہی ہے عوام بے یارو مدد گار پڑے ہیں ،سندھ کے عوام کو کوئی ریلیف اور ثمرات نہیں مل رہے ۔حلیم عادل شیخ ایک نڈر آدمی ہے وہ ان کے ظلم و ستم سے ڈر نہیں سکتاکیونکہ وہ عمران خان کے سپاہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے جس طرح پیپلزپارٹی قیادت بیانات دے رہی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہیں حالانکہ پیپلزپارٹی کی سینیٹ میں انتہائی کم اکثریت ہے اس کے باوجود وہ جیتنے کے دعوے کررہے ہیں اس کا مطلب ہے کہ وہ خریدو فروخت کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن اوپن بیلٹ کی مخالفت کررہی ہے اور سیکرٹ بیلٹ کے ذریعےالیکشن چاہتی ہے ۔بے نظیر بھٹو کے دستخط شدہ میثاق جمہوریت کو اپوزیشن نے بھلا دیا ہے اور میثاق جمہوریت کو بھی رد ی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے یہ ساری باتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ لوگ ووٹوں کی خریدو فروخت کے دھند میں ملوث ہیں اور یہ لوگ پیسہ کلچر سے باہر نہیں نکلنا چاہتے ۔انہوں نے کہاکہ جب تک ووٹ خریدےجائیں گے ، پیسہ کلچرچلتا رہے گاتب تک ہماری جمہوریت او رمعیشت مضبوط نہیں ہوسکتی اورنہ ہی ملک میں حقیقی تبدیلی آسکتی ہے ۔انہوں نےکہاکہ ہم اور ہماری حکومت پوری طرح ڈٹ کرکھڑی ہے کہ اگر ہم نے جمہوریت کے اصل ثمرات دیکھنے ہیں تو ہمیں چیزوں کو شفاف بنانا ہوگا اور کھلا کرنا ہوگا ،کیونکہ اسی سے وہ لوگ جو پیسے کے زور پر آتے ہیں وہ مسترد ہوجائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ سینیٹ الیکشن میں خریدوفروخت کا سارے پاکستان کو پتہ ہے انہوں نے کہاکہ 2018کے الیکشن میں جن ممبران نے ووٹ بیچے تھے ان کو تحریک انصاف نے پارٹی سے نکال دیا اور یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا تھا۔اب وقت آگیا ہے کہ لوگوں کو پتہ چلنا چاہیے کہ کون کہاں پر کھڑا ہے ؟ افسوس ہے کہ ان لوگوں کو وکیل بنایا جارہاہے جن کا ایک امیج ہے لیکن وہ امیج تار تار ہوجاتا ہے جب ایک ایسی منطق پر کھڑے ہوتے ہیں جس کا کوئی اخلاقی جواز ہوتا ہے جس سے وہ اپنے دلائل میں کوئی وزن لاسکے ۔اس وقت شفافیت اورتاریکی کے درمیان چوائس کرنی ہے ۔عمران خان شفافیت کو فروغ دے رہے ہیں جبکہ دوسری جانب اپوزیشن شفافیت کیخلاف کھڑی ہے ، ہم نے دھونس دھاندلی اور پیسہ کلچر کی سیاست کو شکست دینی ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن لیڈر سند ھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کو فوری طور پر رہا کیا جائے ،حلیم عادل شیخ کو دہشت گردوں کیساتھ رکھا گیا ہے اور ان پر جو ظلم و تشدد ہورہا ہے اس کو ہم اسمبلی میں بھی اٹھائیں گے ۔اس سوال پر قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور حلیم عادل شیخ دونوں جیلوں میں ہیں کیا اپوزیشن کوئی حکومت کیساتھ سودا بازی تو نہیں کرنا چاہتی ؟پر وفاقی وزیر اطلاعات نے جواب دیا کہ ہم کوئی سودے بازی نہیں کرنا چاہتے ،ہم اصولوں کی بنیاد پر کھڑے ہیں اگرممبراسمبلی چاہیے پی ٹی آئی کا ہو یا ن لیگ کسی بھی جماعت کا ہو اگر اس سےکوئی ادارہ اثاثوں کے بارےمیں پوچھتا ہے تو اسکو جواب دینا چاہیے ،اپوزیشن پنے اثاثوں کی تفصیلات نہیں دینا چاہتے ہیں اور جمہوریت کی آڑ میں چھپ رہے ہیں تاہم حلیم عادل شیخ کا دامن صاف ہے اور وہ ان سے ڈرنے والے ہیں نہ ڈریں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں