img 1614085397 6

این اے 75 میں ضمنی انتخابات۔۔۔۔ ریٹرننگ افسرکی جانب سے چشم کشا رپورٹ پیش – روزنامہ اوصاف

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک) این اے 75 میں ضمنی انتخابات۔۔۔۔ ریٹرننگ افسرکی جانب سے چشم کشا رپورٹ پیش۔تفصیلات کے مطابق پنجاب کے انتخابی حلقے ڈسکہ این اے 75 میں ضمنی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن میں آج سماعت ہوئی، حلقے کے ریٹرننگ افسر نے اپنی رپورٹ اور ریکارڈ الیکشن کمیشن میں جمع کرا دیا۔تحریری رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ 14 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کے بعد غیر سرکاری نتائج کا اعلان کیا جائے، انتخابی سامان کی حفاظت کے لیے پولیس کے ساتھ رینجرز کا بھی انتظام کیا جائے، بظاہر لگتا ہے کہ پریزائیڈنگ افسران نے نتائج میں رد و بدل کیا ہے، پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کے لیے الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا جائے۔رپورٹ میں کہا کہ ن لیگی امیدوار نے 23 پولنگ اسٹیشنز کے پی اوز کے دیر سے آنے

پر اعتراض کیا، ان پولنگ اسٹیشنز کے فارم 45 نتائج میں شامل نہ کرنے کی درخواست کی گئی ہے، نوشین افتخار نے 23 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا، ن لیگی امیدوار کو ان پولنگ اسٹیشنز کے فارم 45 جمع کرنے کا کہا گیا لیکن انھوں نے صرف 18 پولنگ اسٹیشنز کے فارم 45 جمع کرائے۔آر او کے مطابق پی ٹی آئی امیدوار نے پریذائڈنگ افسران کی جانب سے جمع فارم پر اعتماد کا اظہار کیا، تاہم ٹی ایل پی کے امیدوار نے بھی غیر سرکاری نتائج کے اعلان کا مطالبہ کیا ہے، آر اوز کو جمع فارم 45 کے مطابق ن لیگ نے 3500 ووٹ حاصل کیے، جب کہ علی اسجد ملہی نے 12 ہزار 763 ووٹ حاصل کیے، اور پولنگ کا تناسب 75.34 فی صد رہا، ن لیگی امیدوار کی جانب سے جمع فارم 45 کے مطابق پولنگ کا تناسب 45.16 فی صد رہا۔آر او رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نتائج کے جائزے سے پتا چلا اسجد ملہی کے علاوہ تمام امیدواروں کے 1543 ووٹ کم ہوئے، نتائج میں اس قسم کا فرق ن لیگی امیدوار کے تحفظات کو تقویت دیتا ہے، 20 پریزائیدنگ افسران کو ایک بجے پیش ہونے کا کہا گیا لیکن وہ شام 4 بجے آئے، اور 20 میں سے 13 پی اوز صوبائی الیکشن کمشنر کے سامنے پیش ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں